(ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 12)۔
یہ انسانی حاکمیت کے خلاف ایک انقلابی نعرہ ہے۔زمین پر حکومتِ الٰہی کے قیام کا مقصد:اللہ کی ربویت کے معنی یہ ہیں:زمین کے ہر ایک گوشہ میں انسانی حاکمیت کو چیلنج کردینا جس صورت میں کہ یہ موجود ہو‘یا یوں کہئے کہ االلہ کی ربویت کے معنی ہیں کہ انسان کی خدائی کو چیلنج کیا جائے جس صورت میں کہ یہ موجود ہو‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ جس حکم کا سر چشمہ انسان کی اپنی رضا ہو اور جس حکم میں اقتدار اعلیٰ انسان ہی کو تسلیم کیا گیا ہو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس حکم میں انسان کو الٰہ بنالیا گیا ہے‘بعض نے بعض کو اللہ کے مقابلے میں رب ٹھرالیا۔
تو اس صورت میں اللہ کی ربویت کے اعلان کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کے غصب کردہ اقتدار اعلیٰ کو ان کے ہاتھوں سے چھین کر اللہ تعالیٰ کے حوالہ کردینا اور ان غاصبوں کو اقتدار اعلیٰ کے اس منصب سے اتاردینا۔یہ غاصب جو لوگوں کو اپنے بنائے ہوئے قانون کا پابند بناتے ہیں خود ان کے سامنے رب بن کر بیٹھتے ہیں اور انہیں غلاموں کا درجہ دیتے ہیں۔
اس کا مطلب ہے ’’بشری حاکمیت کے مقابلہ میں حکومت الٰہیہ کا قیام‘‘۔قرآن مجید کے اپنے الفاظ میں اس کی تعبیر یہ ہے کہ
( هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌؕ)
’’اللہ کی حاکمیت جس طرح آسمانوں پر ہے اُسی طرح زمین پر بھی ہے۔‘‘
زمین پر حکومتِ الٰہیہ کے قیام کی یہ صورت نہیں ہے کہ اقتدار اعلیٰ کے اونچے مقام پر کسی مذہبی طبقہ کو فائز کردیا جائے جس طرح کلیسا کے اقدار کے دور میں ہوا۔اسی طرح حکومتِ الٰہیہ کے قیام کی یہ شکل بھی نہیں ہے کہ تھیا کریسی کے نام سے مذہبی طبقہ کو الٰہ بنالیا جائے ۔اس کی تو ایک ہی صورت ہے کہ اللہ کی شریعت کا نفاذ عمل میں لایا جائے اور حاکمیت کے معاملہ کو اللہ کی طرف لوٹا دیا جائے اور اسی کے حکم کے مطابق فیصلے کئے جائیں جس طرح کہ اس نے اپنی نازل کردہ شریعت میں بیان فرمادیا ہے۔
سید قطب شہید ؒ (تفسیر فی ظلال القرآن)