(ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 36)۔
یہ قرآن مجید کی بہت مختصر سی آیت ہے،جو چند لفظوں پر مشتمل ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ﴾(9) ﴿الحجر﴾
’’بے شک ہم نے
’’ الذِّكْر‘‘
کو نازل کیا ہے ، اور ہم ہی یقینی طور پر اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘
’’ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ‘‘
کے اندر پچاس اعلانات ہیں۔اس کے اندر اعلان ہے کہ ہم اس کتاب کو،اس کتاب کے اندر جو اندر جو مطالب ہیں،ان مطالب کو بھی زندہ رکھیں گے،ہم اس پر عمل کرنے کے سلسلہ کو بھی باقی کرکھیں گے، ہم اس کتاب کی حفاظت کرنے والوں کی بھی حفاظت کریں گے۔اس کتاب کو یاد کرنے والوں کی بھی عزت کرائیں گے۔اس کتاب کا علم حاصل کرنے والوں کے سلسلہ کو بھی باقی رکھیں گے۔ہم اس زبان کو بھی محفوظ رکھیں گے۔ جس زبان میں یہ نازل ہوئی ہے۔اس ملک کی بھی حفاظت کریں گے، یہ زبان ہے!
ہم اس قرآن کے محافظ ہیں تو اس کے حاملین کے بھی محافظ ہیں،یہ نہیں ہوسکتا کہ اذان رہے،مؤذن نہ رہے۔اس ’’ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ‘‘
میں ساری حفاظتیں اور ضمانتیں ہیں۔اس لیے مبارک ہیں،وہ لوگ جو اپنے کو اس سلسلہ میں داخل کریں۔اس کشتیٔ نوع میں اپنے کو آپ بٹھادیں۔’’آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچاانے والا نہیں سوائے اس کے جس پر اللہ رحم کرے۔‘‘(ہود :43) ایک ہی جگہ تھی طوفانِ نوح میں بچنے کی۔اس وقت بھی اگر کوئی جگہ ہوسکتی ہے،جبکہ ایک سیلاب اُمڈ اچلا آرہا ہے۔ساری دنیا پر مادیت کا ،نفس پرستی کا، خواہش پرستی کا ،قوت پرستی کا،طاقت پرستی کا، یہ سب کو لے ڈوبے گا۔اس وقت کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے۔کشتیٔ قرآن ہے،جو اس میں جگہ حاصل کرئے گا،وہی بچے گا۔دنیا میں مسلمانوں کی حفاظت کی کوئی جگہ نہیں ہے،سوائے اس کے ہم قرآن مجید کے سائے کے نیچے آجائیں۔ حفاظت کا راز قرآن مجید کی تعلیمات کی بقا میں ہے،یہ ضمانت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے :
’’ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ‘‘
ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں!!
مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ (مطالعہ قرآن کے أصول و مبادی)