(ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 32)۔
ربیع الأول اسلامی سال کا وہ بابرکت مہینہ ہے،جس میں محسنِ انسانیت ،نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے اور اسی ماہ میں آپؐ کا وصال بھی ہوا۔اس نسبت سے یہ مہینہ اُمّتِ مسلمہ کے لیے تجدید محبت،سیرتِ طیبہ پر غور کرنے اور آپؐ کی تعلیمات کو اپنا نے کا خاص پیغام لے کر آتا ہے۔
تقویٰ و پرہیز گاری کے ساتھ تو مسلمان کے لیے ہر مہینہ ہی باعث برکت ہے،یہ مسلمان کی شان نہیں اور اسلام کا طریقہ نہیں کہ ایک مہینہ اعنال ہوں،پھر پورا سال پامال ہو یا ایک مہینہ عقیدت و محبت ہو پھر پورا سال غفلت ہو،لہٰذا ربیع الا وّل ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ بحیثیت مسلمان زندگی کے ہر موڑ،ہر لمحے ایسے رہو جیسے اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتے ہیں۔
لہٰذا اس ماہ کی سب سے بڑی ذمّہ داری یہ ہے کہ ہم صرف ظاہری تقریبات تک محدود نہ رہیں بلکہ آپؐ کے اسوۂ حسنہ کو اپنی عملی زندگی کا حصّہ بنائیں ۔اپنے اخلاق ،معاملات اور روز مرہ کے معمولات کو سنت ِ نبوی ﷺ کے اصل حلیہ میں بگاڑ پیدا کریں،دین کے نام پر خلاف اسلام کا م کو وسعت دینا ہادی کا سامان ہے۔
آپ ﷺ کی ولادت باسعادت کا ذکر خیر انتہائی برکت والا ہے لیکن آپ ﷺکی اُس متواتر سنت مطہرہ کو اپنانابھی ہماری دینی ذمّہ داری ہے جس پر آپؐ نے مسلسل23 سال تک عمل کرکے اُمّت کے لیے تا قیام ِ قیامت نشانِ منزل چھوڑا یعنی دین کو انفرادی سطح پر اوڑھنا بچھونا بنانے کے ساتھ اُس کی دعوت کو عام کرنا اور اجتماعی سطح پر اُس کے قیام اور نفاذ کی جدوجہد کرنا۔اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں صحیح راستے کی سمجھ عطا فرمائیں اور نبی پاک ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین یا رب العالمین!
فرید اللہ مروت (رکن مجلس ادارت)