Menu
اسلامی نظام کا نمونہ پیش کرنے کی ضرورت۔
(ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 24)۔

ہر دور میں دنیا کے لیے ضرورت رہی ہے کہ ایک مکمل معاشرہ،ایک ملت اور ایک عالمگیر دعوت کی سطح پر اسلامی زندگی پائی جائے۔یہ کہنا کافی اور مفید نہیں کہ صاحب،کتابوں کے اندر پورا اسلام موجود ہے،دیکھ لیجیے،پڑھ لیجیے!یا آپ کہیں کہ اگر آپ کو معلوم کرنا ہو کہ اللہ شناسی کیا ہوتی ہے،اللہ کا خوف کیا ہوتا ہے،اچھے اخلاق کیا ہوتے ہیں،تو ہم آپ کو فلاں بزرگ سے ملادیں گے ۔اس سے دنیا ہدایت نہیں پاتی اور دنیا میں کوئی انقلاب رونما نہیں ہوتا۔دنیا اُس وقت توجہ اور غور کرنے پر مجبور ہوتی ہے،جب پورے معاشرہ کی سطح پر،پورے تمدن کی سطح پر،عالمگیر اسٹیج پر(جس پر تمام دنیا کی نگاہیں پڑتی ہیں)صحیح اور مکمل اسلامی زندگی کا نمونہ پیش کیا جائے۔قوموں اور ملکوں کی نگاہیں یہ اندازہ لگاسکیں کہ اسلام کا عقیدہ انسان کی زندگی میں یہ تبدیلی پیدا کرسکتا ہے،اللہ کے یہاں سے آئی ہوئی روشنی اور ہدایت کا نور اس کی زندگی کو اس طرح چمکاتا اور سنوارتا ہے،وہ یہ دیکھ سکیں کہ شریعت کی تعلیمات کس طرح کا معاشرہ پیدا کرتی ہیں،کس طرح کے اخلاق پیدا کرتی ہیں۔جب تک یہ نہ ہو،اس وقت تک انسانیت کیا،انسانیت کا کوئی چھوٹا سا کنبہ اور عالم انسانی کا ایک چھوٹا سا گوشہ بھی اسلام (بحیثیتِ نظامِ زندگی)کی طرف توجہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

مولانا سیّد ابوالحسن علی ندویؒ (دستورِ حیات)

Related Media