Menu
ایمان کا تقاضا: احتساب۔
(ندائے خلافت - 2026 | شمارہ نمبر 13)۔

’’خسران سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی باقاعدگی سے اپنا احتساب کرتا رہے۔ہر نماز کے بعد اور ہر دن کو ختم کرنے پر وہ یہ دیکھے کہ کسی ادنیٰ رفتار سے بھی عقائد میں،عبادات میں، اخلاق میں، تحریکی جدوجہد میں، فریضۂ سمع وطاعت میں، دعوتِ حق کے پھیلانے میں پسپائی تو نہیں ہورہی؟فخر وریا اور شہرت طلبی اور مفاد پسندی کی منحوس پرچھائیاں تو ذہن پر نہیں پڑ رہیں؟‘‘

خرابی جب آتی ہے تو چوروں کی طرح دم سادھے ہمارے حریم ذات میں داخل ہوتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ غیر محسوس طور پر اپنا زہر پھیلاتی ہے۔آدمی نفس اور ماحول کے دباؤ سے بعض اُمور میں ہلکی ہلکی تاویلیں کرتا ہے اور انحرافی طرزِ عمل اختیار کرنے کے لیے خاصے دلائل جمع کرتا ہے،تاکہ اپنے ضمیر اور بیرونی نا قدین و معترضین کا مقابلہ کرسکے۔تاویلوں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اُصول و حد و د اور مقاصد و غایات اور اخلاقی شعائر کی جو لکیریں کتاب و سنت کی روشنی میں بہت سوچ سمجھ کر لگائی گئی تھیں اور جن کی سال ہا سال تک پاسداری کی جاتی رہی ہے،اُنہیں ذرا آگے پیچھے کیا جا سکے۔بس ایک دفعہ اگر کسی گوشے میں یہ عمل کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر دوسرے گوشوں میں بھی ایسا ہونے لگتا ہے۔پہلے اگر پسپائی یا انحراف کا عمل انچ کے دسویں حصے تک محدود تھا تو کسی دوسرے مرحلے میں پورے انچ کا فرق پڑجاتا ہے اور بعد ازاں کسی اور موقع پر فٹ بھر کا اور آگے چل کر میل بھر کا!تاریخ میں انسانی کردار کے لیے سنت اللہ یہی ہے کہ جو تھوڑا سا آگے بڑھنے کے لیے زور لگاتا ہے،اُسے زیادہ پیش قدمی کے لیے حالات مہیا کیے جاتے ہیں۔اسی طرح جو قدم کو پیچھے ہٹاتا ہے اس کو مزید پیچھے ہٹانے والے حالات پیش آتے ہیں۔نُوَلِّھ مَا تَوَلّٰی اس خطرے سے تحفظ صرف احتساب میں ہے۔احتساب کرتے ہوئے ہمیشہ اپنے اوّلین طے کردہ حدود وقیود کا مطالعہ کرنا چاہیئے۔پھر دیکھنا چاہیئے کہ ان خطوط و حدود میں کیاتبدیلی کی گئی۔یوں بھی سوچا جاسکتا ہے کہ کل تک کسی معاملے میں التزام اور کسی غلط چیز سے اجتناب اور کسی خاص رویے کی پسندو ناپسند کے بارے میں ایک شخص(یا سارا گروہ) کہاں قدم جمائے ہوئے تھا اور آج کہاں ہے!

نعیم صدیقی ؒ (تحریکی شعور)

Related Media