(ندائے خلافت - 2025 | شمارہ نمبر 02)۔
کسی نظام کو بدلنے کے لئے اُٹھنے والے انقلابی گروہ کا ایک مخصوص مزاج ہوتا ہے،جسے ہم اُس کا تحریکی مزاج کہہ سکتے ہیں۔ایسے لوگ حد درجہ پُرعزیمت ہوتے ہیں اور کسی دشواری یامشکل سے گھبرا کر راستہ بدلنے پر تیار نہیں ہوتے۔یہ باطل سے شدید متنفر ہوتے ہیں،کیونکہ وہ اسی کو گرانے کی عملی جدوجہد کررہے ہوتے ہیں اور اسی کے ساتھ اُن کی موت و حیات کی جان گسیل کشمکش جاری ہوتی ہے۔حق کی سر بلندی کے لیے اُن میں جنون کی سی کیفیت ہو تی ہے۔حق کے دامن پر ایک دھبہ دیکھنا بھی اُنہیں گوارا نہیں ہوتا۔وہ باہم پیوست ہوتے ہیں۔وہ ایک دوسرے سے شدید محبت کرتے ہیں۔قرآن میں اُن کے تعلق کی باہمی کیفیت کو رُحَمَاءُ بَیْنَھُمْ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
اُن کا مزاج سخت درجہ کا انقلابی ہوتا ہے۔وہ باطل کے ساتھ کسی درجہ میں بھی مصالحت،موانست یا رعایت کا رویہ اختیار کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔مصلحت کے معاملہ میں بھی وہ زیادہ گنجائش دینے والے نہیں ہوتے۔اُن میں ناقابل تسخیر استقلال کا جو ہر موجود ہوتا ہے۔عزم وارادہ کی پختگی اُنہیں ایک لمحہ لے لیے بھی راہ حق میں چلتے ہوئے مادی نفع و نقصان کا حساب لگانے کی اجازت نہیں دیتی۔ان میں حد درجہ شوق جہاد ہوتا ہے۔وہ تبلیغ و تلقین کے تقاضے اتمام حجت کی حد تک ادا کرنے کے بعد باطل سے بالفعل ٹکرانے کا ایک زبردست داعیہ اپنے اندر رکھتے ہیں۔اُن کی جانیں ہتھیلیوں پر اور سرگردنوں پر صرف اللہ کی امانت ہوتے ہیں۔ایسی ہی بے تابی اُن مسلمانوں میں موجود تھی جب ہجرت کے بعد مدینہ میں اُنہیں حکم دیا گیا تھا:
وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ﴿﴾ (البقرہ: 190)
"اور تم اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا"
انہی صفات کا گروہ ہوتا ہے جو نظام حق کو بر پا کرنے کی جدوجہد کرسکتا ہے۔(رسول اکرمﷺ کی حکمتِ انقلاب سید اسعد گیلانی۔)