Menu
جدید طرز زندگی میں بچوں کی کردار سازی

(شمارہ ماہ اگست2024ء)

راحیل گوہر صدیقی

معاون شعبہ تصنیف و تالیف قرآن اکیڈمی یاسین آباد

ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے ، پھر اس کے والد ین اسے یہودی، مجوسی یا نصرانی بنا دیتے ہیں۔ (صحیح البخاري، رقم الحديث: 1385) آپ ﷺ نے انسان کی خلقت کے حوالے سے یہ بنیادی اصول ارشاد فرما دیا کہ ہر بچہ پیدائشی طور پر فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے اس کے بعد اس کے والد ین اس کی ذہنی تشکیل و تعمیر کرتے ہیں اور اسے جس رنگ میں چاہیں ڈھال دیتے ہیں۔ آپﷺ کا یہ فرمان انسان کے عقائد و نظریات کے بناؤ اور بگاڑ کے سلسلے میں ہے جس کے تحت وہ پھر اپنی پوری زندگی بسر کر تا ہے ۔ لیکن ہر بچے کی زندگی کی ترجیحات اور مشاغل میں ایسی چیز میں شامل ہوتی ہیں جو اس کے شوق اور طبیعت کے میلان کو ظاہر کرتی ہیں ۔ کسی مخصوص کھیل یا تفریح میں اس کی گہری دلچسپی اس کے کردار و عمل میں مثبت یا منفی اثرات پیدا کرتی ہے ۔ اس کی اس کھیل اور تفریح میں وہ کھلونے بھی شامل ہیں جو اس کے ذہنی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں ۔

بعض بچے تکنیکی ذہن کے حامل ہوتے ہیں اور ہمہ وقت اشیا کی ساخت، بناوٹ اور اس کی مرمت سازی میں منہمک رہتے ہیں۔ اس کے بر خلاف کچھ بچے ادنیٰ ذہن رکھتے ہیں، ان کو بچپن سے ہی کہانیاں ، داستا نیں اور حیرت انگیز واقعات پڑھتے رہنے کا جنون ہوتا ہے ۔ بچوں کے اس قبیل میں بعض ہمہ وقت لڑنے جھگڑنے ، دنگا فساد اور دھینگا مشتی کرنے میں ہی اپنا وقت برباد کرتے رہتے ہیں ، وہ نہ گھروں میں نچلے بیٹھتے ہیں اور نہ اسکولوں اور مدرسوں میں، یہی بچے بسا اوقات ایسی چیزوں کی فرمائش کر بیٹھتے ہیں جو نہ صرف خود ان کے لیے بلکہ دیگر افراد کے لیے بھی نقصان دہ اور ضرر رساں ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر آج کل معاشرے میں پھیلی دوسری خرافات کے ساتھ بچوں کی اکثریت میں کھلونوں کی شکل کے ہتھیاروں سے کھیلنے کا رحجان پیدا ہو گیا ہے ۔ یہ نقلی ہتھیار بچے کبھی اپنی جیب خرچ سے از خود بھی حاصل کر لیتے ہیں یا پھر ان کے والدین اور سر پرست خرید کر دیتے ہیں۔

اکثر والدین اور سر پرست بچوں کی ناز برداریاں اٹھاتے ہوئے ان کی ہر فرمائش پوری کرنا اپنے لیے لازم سمجھتے ہیں ۔ یہ غیر ضروری فرمائشیں ہیں جو کسی حد تک خطرے کی علامت ہوتی ہیں اور آگے چل کر بچوں اور معاشرے کے دیگر افراد کے لیے وبال جان بن جاتی ہیں ۔ ہماری قوم کا المیہ یہ ہے کہ وہ بچوں کی تعلیم پر زور دیتی ہے اور اس معاملے میں جتنی حساسیت کا مظاہرہ کرتی ہے ، اس کا عشر عشیر بھی بچوں کی تربیت پر دھیان نہیں دیتی ۔ جب کہ تعلیم کے ساتھ مناسب اور صحت مند تربیت بھی لازم و ملزوم ہیں ۔ علمائے نفسیات کہتے ہیں کہ بچے کی اصل شخصیت بچپن میں ہی بن جاتی ہے اور بچپن جو اثرات ان کے ذہن پر چھوڑتا ہے وہ مستقل اور پائدار ہوتے ہیں ۔ جدید تحقیق کے مطابق بچوں کی شخصیت کی مثبت یا منفی تعمیر کا اسی فیصد حصہ ابتدائی چھے سال کی عمر تک مکمل ہو جاتا ہے ۔ پھر باقی زندگی انہی محاسن و مصائب کا عکس ہوتا ہے۔ اس عمر میں مزاج ، عادات اور ذوق و شوق کو جس راہ پر ڈال دیا جائے آئندہ بھی وہ اس اچھی یا بری راہ کا مسافر بنا رہتا ہے ۔

مولانا حفظ الرحمن سیو با روی اپنی تالیف اخلاق اور فلسفہ اخلاق میں رقم طراز ہیں کہ :

جن اعمال کو ہم نے زندگی کے ابتدائی دور میں انجام دیا تھا ہماری ساری زندگی ان ہی اعمال و افکار کی تکرار کا نام رہ جاتا ہے۔ پس اگر ہم بچپن ہی سے اچھی عادتیں اپنے اندر پیدا کر لیں تو بقیہ زندگی میں بھی ہم ان ہی عادات کی طرف متوجہ رہیں گے اور ان ہی کو اپنا مقصد حیات بنائیں گے اور ان سے بہت فائدہ اٹھائیں گے۔۔

اصل بات یہ ہے کہ بندوقوں اور پستولوں کا کھلونوں کی صورت میں ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا، قابل غور بات یہ ہے کہ جس قسم کے کھلونے بچوں کے ہاتھ میں دے کر دانستہ یا نادانستہ ان کو مصنوعی تخریب کاری کی تربیت دی جارہی ہے کل جب یہی بچے سن شعور کو پہنچیں گے تو بہت ممکن ہے کہ وہ اصل ہتھیار بھی ہاتھ میں اٹھالیں۔ کیونکہ آج ایک دوسرے کو پلاسٹک کے چھروں سے ہراساں کر کے بھگایا جا رہا ہے تو آئندہ اپنے دشمنوں اور مخالفین کو آتشیں اسلحہ سے بھی بھونا جا سکتا ہے۔ اسلحہ ہاتھوں میں تھامنا ، مورچہ بندی کرنا تو وہ بچپن سے ہی سکھ لیتے ہیں ، ٹرائیگر بھی بہ خوبی دبا سکتے ہیں تو جس ماحول میں اور جس قسم کی منفی تربیت میں عہد طفولیت گزارا ہو گا وہ جوانی کے جوش اور ولولے کی کیفیت میں بھلا کیوں کر بھلا یا جا سکتا ہے۔

اخبارات میں اکثر یہ خبر یں نظر آتی ہیں کہ مختلف جرائم میں کم عمر بچے بھی ملوث ہوتے ہیں۔ نامناسب تربیت ، اخلاقی قدروں سے عاری ماحول اور والدین کی مجرمانہ غفلت وہ مثلث ہے جس نے نئی نسل کو بربادی کی راہ پر لگا دیا ہے اور واپسی کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا۔

اس کے علاوہ دوسری اہم ترین صفت جو اپنے بچوں کے کردار و عمل میں پیدا کرنا ناگزیر ہے وہ ان کے اندر سچائی کی فضیلت اور اہمیت کی تخم ریزی کرتا ہے ۔ ان کی ظاہری اور باطنی اُٹھان سچائی اور راست روی پر استوار کرنا ہے ۔ رسول عربی ﷺ کا فرمان ہے کہ : سید نا عبد اللہ بن عامر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ہمارے گھر تشریف لائے، میں اس وقت بچہ تھا میں کھیلنے کے لیے باہر جانے لگا تو میری والدہ نے مجھ سے کہا : عبد اللہ ! ادھر آؤ میں تمہیں کچھ دوں گی۔ نبی ﷺ نے فرمایا : تم اسے کیا دینا چاہتی ہو ؟ انہوں نے کہا : میں اسے کھجور دوں گی ۔ نبی ﷺ نے فرمایا : اگر تم ایسا نہ کرتیں تو تم پر ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا۔ (مسند احمد، رقم الحدیث: 13702)

رسول مکرم ﷺ نے حکمت و موعظت سے بھر پور اپنی امت کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی اس ڈھب پر تربیت کریں کہ وہ راست روی اور سچائی کو مقدس، محترم اور قابل عمل سمجھنا ضروری سمجھیں ۔ حق کو حق جاننا اور سچ بولنے کو اپنی اولاد کے لیے لازم کرلینا ایک بندہ مومن کی پہچان ہے ۔ جسمانی غذا کے ساتھ اچھی اور اعلیٰ صفات سے آراستہ تربیت بچوں کی روحانی غذا ہوتی ہے۔ جو بچوں کی فضولیات، لغویات اور منکرات سے محفوظ رکھنے کا ذریعہ بنتی ہے ۔ پرورش تو جانور کے بچوں کی بھی ہو جاتی ہے، لیکن انسان کو تو اشرف المخلوقات کی خلعت سے قدرت نے نوازا ہے اور اس پر بچوں کی اچھی پرورش کے ساتھ ایسی تربیت کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے جس کے زیر اثر رہ کر وہ معاشرے کا ایک نیک اور صالح انسان بن سکے۔

سورۃ لقمان میں حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :

بیٹا نماز کی پابندی کرنا اور (لوگوں کو) اچھے کاموں کے کرنے کا حکم دینا اور برے کاموں سے منع کرتے رہنا اور جو مصیبت تجھ پر واقع ہو اس پر صبر کرنا ۔ بے شک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں۔ اور (ازراہ غرور) لوگوں سے اپنے گال نہ پھلانا اور زمین پر اکڑ کر نہ چلنا کہ اللہ کسی اترانے والے کو پسند نہیں کرتا ۔ اور اپنی چال میں اعتدال کیے رکھنا اور (بولتے وقت) آواز کو نیچی رکھنا کیونکہ سب آوازوں میں بری آواز گدھوں کی ہے ۔ (19-17)

یہ وہ سنہری پند و نصائح ہیں جن کو اپنی زندگی کا مرکز و محور بنا لینے سے دنیا اور آخرت دونوں سنور جاتے ہیں۔ کیونکہ قرآن حکیم میں جہاں ایمان کا ذکر ہوا ہے تو ساتھ ہی ساتھ عمل صالح کا ذکر بھی کیا گیا ہے ۔ گویا ایمان اور نیک عمل لازم و ملزوم ہیں ۔ اور قرآن کا مطلوب انسان بننے کے لیے اس کی تربیت کو اولین ترجیح حاصل ہے۔ بچے کو عہد طفولیت میں جس سانچے میں ڈھالا جائے گا وہ آئندہ زندگی میں اسی پیکر خو میں ڈھلا رہے گا ۔ جب کہ بچے کو پیکر حسن میں ڈھالنے کی ذمہ داری والدین کی ہے ۔ اور وہ اپنی اس کو تا ہی اور غفلت پر اللہ کے حضور قابل گرفت ہوں گے ۔ رسول مکرمﷺ کا اشاد ہے کہ :

کسی باپ نے اپنی اولاد کو کوئی تحفہ اور عطیہ حسن ادب اور اچھی سیرت سے بہتر نہیں دیا۔ (سنن الترمذي، رقم الحديث: 1952) اللہ تعالیٰ نے تربیت کے حوالے سے ہی خبردار کیا ہے کہ :

اے ایمان والو! اپنے آپ کو اوراپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ۔ (التحریم: 106)

اس آیہ مبارکہ کی رو سے والدین پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ساتھ اپنی اولاد کو بھی جہنم کے عذاب سے نجات کی فکر کریں ۔ اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ اولاد کی بہترین اور نفیس ماحول میں تربیت کی جائے ۔ دور جدید میں تو یوں بھی ہر طرف گمراہیاں ، غلاظتیں ، کردار و عمل کو برباد کرنے والے فتنے اور خاندانی نظام میں رخنے ڈالنے والی شیطانی قوتیں متحرک ہیں ، اس لیے اس دور میں پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔ جو اولاد کبھی ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوا کرتی تھی آج زمانے کی سحر انگیزی میں ڈوب کر ان کی آنکھوں کا کانٹا بنی ہوئی ہے ۔ اور اس میں زمانے کی چیرہ دستیوں کے ساتھ والدین کی طرف سے تربیت کا فقدان بھی ہے ۔ گھر ، مدرسہ یا کوئی تعلیمی ادارہ ہو ہر سطح پر تربیت اور اصلاح حال عنقا ہے ۔ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا ادراک ہونا چاہیے، اور آنے والی نسل کی بہترین تعلیم و تربیت ہماری اولین ترجیحات میں ہونا چاہیے ۔ مناسب تربیت اور بچوں کے قلوب و اذہان میں خوف خدا اور تہذیب و تمدن کا جو ہر پیدا کرنے سے اُن کی اپنی زندگی بھی سکون و راحت بن سکے گی اور وہ والدین اور سر پرستوں کے لیے بھی ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ثابت ہوں گے۔ یہ نوشتہ دیوار ہے کہ انسان جو ہوتا ہے وہی کاٹتا ہے ۔

فاعتبروا یا أولى الالباب

Related Media