(شمارہ ماہ ستمبر2024ء)
حافظ محمد اسد
استاذ قرآن اکیڈمی یاسین آباد
گھریلو جھگڑے تقریباً ہر گھر میں عام ہیں اور کچھ خاندان خانگی امور پر تنازعات کے باعث بکھر گئے (یعنی نوبت علیحدگی تک جا پہنچی) اس ضمن میں یہ جاننا ضروری ہے کہ تنازعات کا سبب کیا ہے اور کیسے اس مسئلہ پر قابو پانا ممکن ہے، اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرد، عورتوں کو وقت نہیں دیتے اور عورت ہمیشہ اپنے شوہر کی مکمل توجہ چاہتی ہے، اور اس میں کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہوتی خاص کر اکلوتی لڑکیاں جن کو اپنے ماں باپ کے گھر میں ہمیشہ توجہ اور لاڈ پیار ملتا ہے اُن کا معاملہ یہ ہے کہ سسرال میں بھی بھر پور توجہ چاہتی ہیں جو ممکن نہیں، اب نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کو تھوڑا سا بھی نظر انداز کرنا ان کے رویے اور سلوک میں تبدیلی لے آتا ہے، سوچنے کی ضرورت ہے کہ اکلوتی بیٹی نے بھی آخر ایک دن سسرال چلے جانا ہے، لہذا اپنی بیٹیوں کو بلا وجہ نہیں بگاڑنا چاہیے بلکہ اُن کی تربیت اس انداز سے کی جائے کہ وہ سسرال کے ماحول میں ہم آہنگی پیدا کریں ورنہ دن بدن طلاقوں کی شرح میں اضافے سے معاشرہ جس بگاڑ کی طرف چل پڑا ہے اس میں کمی نا آسکے گی، کیونکہ ہمارے ہاں طلاق یافتہ عورت کا دوبارہ گھر بس جانا بے حد دشوار ہوتا ہے جسے معاشرے میں رہنے والا ہر شخص خوب جانتا ہے۔
خاندانی اختلافات دور کرنے میں رکاوٹ:
جو چیز سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے وہ خود بینی اور خود پسندی ہے، انسان جب صرف اپنی خوبیوں کو دیکھتا ہے اور اپنے آپ کو عقل کل سمجھتا ہے تو اسے اپنے میں کبھی کوئی خامی یا برائی نظر نہیں آتی۔ اس وقت اور بھی برا ہوتا ہے جب دونوں میاں بیوی اس مرض میں مبتلا ہوں لہذا دونوں اپنی زندگی کو اپنے ہاتھوں مشکل بنا لیتے ہیں۔
خاندانی اختلافات کے چند اسباب:
میاں بیوی کے خیالات کا ایک دوسرے سے نہ ملنا بھی تنازع کا ایک سبب بن سکتا ہے۔ ایک خاتون سے جب ازدواجی زندگی کے نشیب و فراز کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ میرے میاں کو ہر وقت گھومنے پھرنے کا شوق ہے جبکہ مجھے گھر پر رہ کر خانہ داری کرنے میں مزہ آتا ہے۔ وہ چائنیز کھانے کے دلدادہ ہیں لیکن مجھے چٹ پٹے کھانے اچھے لگتے ہیں سات سال ہو گئے نہ میری پسند بدل سکی نہ ان کی اور میرا خیال ہے ہماری پسند نا پسند ایک نہ ہو سکے گی لیکن گزارہ ہو رہا ہے (کبھی وہ میری کبھی میں ان کی بات مان لیتی ہوں) اگر ہم ضد یا ہٹ دھرمی کرتے تو شاید ایک ساتھ نہ چل پاتے۔
یہاں مرد حضرات کو بھی اپنے رویے میں تبدیلی کی ضرورت ہے کہ جس طرح وہ اپنے کاروبار پر توجہ دیتے ہیں، اسی طرح اگر اپنے گھر والوں کو بھی وقت دیں تاکہ گھر کا ماحول بہتر ہو اور اخلاق و محبت کا ماحول پیدا ہو، حدیث مبارک ہے:
إِنَّ الرِّزْقَ لَيَطْلُبُ الْعَبْدَ كَمَا يَطْلُبُهُ أَجَلُهُ. (مسند البزار، ج 10، ص 37، حدیث:4099)
ترجمہ: بندے کو رزق ایسے تلاش کرتا ہے جیسے بندے کی موت اس کو تلاش کرتی ہے۔
بزرگ کہتے ہیں کہ جب رزق انسان کو موت کی طرح تلاش کرتا ہے تو رزق میں اضافے کی کوششوں میں دن رات ضائع کیوں کیے جائیں، لہذا اپنے گھر والوں پر بھی توجہ دیں۔
تنازع کا آغاز:
جب معاملہ یہ ہو جائے کہ میاں بیوی کو اپنی بات سچ ثابت کرنے کے لیے دلائل دینے پڑیں تو سمجھ جائیں کہ گھر بربادی کی طرف بڑھ رہا ہے، اس مسئلے پر فوراً قابو پانے کی کوشش کریں۔ گھریلو تنازعات کی ایک اہم وجہ بیٹے کا والدین کو وقت نہ دینا بھی ہے یہاں میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں، ایک اچھے کھاتے پیتے گھرانے کے نوجوان کی شادی ہوئی، بیاہ سے پہلے اس مختصر سے کنبے میں گہری محبت تھی۔ شام کو کاروبار سے فارغ ہوکر گھر کے سارے افراد اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھاتے، چائے پیتے، تلاوت سنتے اور بات چیت کرتے۔ شادی کے بعد اس نوجوان میں اچانک تبدیلی آگئی وہ گھر میں داخل ہوتے ہی سیدھا اپنی بیوی کے کمرے میں چلا جاتا وہیں کھانا کھاتا اور زیادہ وقت کمرے میں ہی گزارتا اور صبح ماں باپ، بہن بھائیوں سے ملے بغیر کام پر چلا جاتا، اس طرز عمل سے گھر والے محسوس کرتے کہ ان کی روزانہ کی زندگی میں ایک خلا سا پیدا ہوگیا ہے، ضروری یہ ہے کہ اس خلا کو پر کیا جائے۔ بسا اوقات ایسے میں ناراضگی کا ماحول پیدا ہوتا ہے (اور چند ہی دنوں میں ماتھے شکن آلود ہو جاتے ہیں) پھر چہ میگوئیاں، حسد و نفرت، طعن و تشنیع، پھر کھلم کھلا مخالفت اور ہوتے ہوتے بات یہاں تک پہنچتی ہے کہ بیٹے سے کہا جاتا ہے بوریا بستر اٹھاؤ اور چلتے بنو۔ ساس بہو کو الزام دیتی ہے کہ میرا بیٹا جس کی سعادت مندی میں مجھے کبھی شبہ نہیں ہوا تمہارے اس گھر میں قدم رکھنے کی دیر تھی کہ اس نے آنکھیں پھیر لیں، ہو نہ ہو اسی نے پٹی پڑھائی ہے، اب ذرا رک کر سوچیں، اس موقع پر اگر لڑکے کے والدین افہام و تفہیم سے کام لیتے کہ نئی شادی ہے، ایسے میں کبھی کبھار گھر کے دیگر لوگوں کی طرف سے قدرے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ لیکن یہ کچھ دنوں تک ہی رہتا ہے پھر حالات معمول پر آجاتے ہیں (اس موقع پر حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے) لیکن ہمارے ہاں خاندان والے ایسی ایسی باتیں بناتے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ ایسے معاملات میں بیٹے اور بہو کو پیار سے سمجھایا جائے ان کی تضحیک نہ کی جائے، معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی جائے ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے بہتر ہے کہ مل بیٹھ کر اس مسئلے کو پیار سے حل کریں، بلکہ اکثر یہ سننے کو ملتا ہے کہ ہم آپ کے بغیر بھی رہ سکتے ہیں، تو بھائی انسان دنیا میں اکیلا ہی آیا ہے اکیلا ہی جائے گا لیکن دنیا میں زندگی گزارنے کے کچھ اصول ہیں اس پر عمل کرنا لازمی ہے۔
میاں بیوی کے تنازع کی وجہ کوئی تیسرا فرد ہی ہوتا ہے جو معمولی باتوں کو ہوا دے کر جھگڑے کو بڑھاتا ہے۔ اب یا تو وہ ساس، سسر ہوں گے یا بیوی کے میکے والے۔ اس لیے شریعت نے ایک بات سمجھا دی، لڑکی کو کہا کہ دیکھو نکاح سے پہلے ایک ماں تھی اب تمہاری دو مائیں ہیں اور دو باپ ہیں۔ اسی طرح لڑکے کو بھی بتا دیا ہے کہ اب ساس سسر بھی تمہارے والدین ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ساس اور سسر کو ماں باپ کا درجہ دیا ہے چناں چہ لڑکی کو چاہیے کہ خاوند کے گھر والوں کو خوش رکھے اور خاوند کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کے گھر والوں کی عزت و تکریم کرے یہ خوشگوار ازدواجی زندگی گزارنے کے لیے ناگزیر ہے۔
اسلام کی عائلی زندگی سے متعلق تعلیمات:
اسلام زندگی کے ہر پہلو کے متعلق رہنمائی دیتا ہے، اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جس میں عقائد، عبادات، عائلی و معاشرتی نظام، معاشی، سیاسی و عدالتی نظام شامل ہیں۔ یہ سب باہم ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ کسی ایک پہلو کے متاثر ہونے سے ایک مسلمان کی پوری زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ عقائد کی خرابی سے ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اسی طرح معاشرتی نظام بگڑ جائے تو صحیح اسلامی معاشرہ تشکیل نہیں پاسکتا۔ اس وقت معاشرے سے عام طور پر میاں بیوی اور ساس بہو کے حوالے سے تنازعات ہمارے سامنے آتے رہتے ہیں۔ ان کی سنگینی کئی اعتبار سے ہے۔ یہ جھگڑے خاندان کے افراد کا ذہنی سکون برباد کر دیتے ہیں۔ ان تنازعات کے نتائج زندگی کے بہت سے معاملات پر اثر انداز ہوتے ہیں، بچوں پر مضر نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ اثرات تا زیست ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے جس کی وجہ سے عدم تحفظ اور احساس کمتری کا شکار بن کر زندگی گزارتے ہیں ایسے جھگڑوں کے نتیجے میں خاندان جدا ہو جاتے ہیں۔ طلاق کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو اکثر واقعات غصہ، یا وقتی رنجش کی بنا پر پیش آتے ہیں۔ طلاق کے بعد تعلقات میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔ بچوں کو زندگی میں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور میاں بیوی بھی نقصان اٹھاتے ہیں۔ میاں بیوی میں علیحدگی ہوتی ہے تو ہر متعلقہ شخص کی زندگی اس سے متاثر ہوتی ہے۔ صلح کے تعلق سے فرمان الہی ہے:
وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ يُّرِيْدَاۤ اِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَيْنَهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا خَبِيْرًا [النساء: 35]
اور اگر تمہیں زوجین کے باہمی تعلقات بگڑ جانے کا خدشہ ہو تو ایک ثالث مرد کے خاندان سے اور ایک عورت کے خاندان سے مقرر کرلو، اگر وہ دونوں صلح چاہتے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان میں موافقت پیدا کردے گا، اللہ تعالیٰ یقیناً سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔
دونوں کی طرف سے مقرر کردہ حکم / پنچ میاں بیوی کے درمیان صلح کی راہ تلاش کرنے بیٹھیں گے اور تحقیق کریں گے کہ ان کے درمیان تنازع کے کیا اسباب ہیں؟ اب مندرجہ ذیل نکات پر توجہ رکھیں۔
ضروری ہے کہ فریقین کی گفتگو کی شروعات بد گوئی اور سخت کلامی سے نہ ہو۔ بد گوئی کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کے منہ پر اسے برا بھلا بولنا یا کوئی ایسی بات کہنا جس سے اسے اذیت پہنچے۔
ایک خاندان کی تباہی کے درج ذیل عوامل ہو سکتے ہیں:
تنقیص: سب سے پہلا اور مہلک عمل تنقیص ہے۔ زوجین کو ایک دوسرے سے شکایتیں ہونا تو فطری ہے مگر جب شکایت تنقیص کی صورت اختیار کر جائے تب مسائل کھڑے ہو جاتے ہیں۔ شکایت اور تنقیص کے فرق سے ہم واقف ہیں۔ لہٰذا حکم کا کام ہے کہ تنقیص کو روکے۔
توہین و تحقیر: تنقیص کے بعد توہین کا عمل شروع ہوتا ہے۔ اس کی مثال بد زبانی اور برے القاب کا استعمال ہے۔ یہ بدترین عمل ہے جو دوسرے کو غصہ پر اکساتا ہے۔ اس کے نتیجے میں تنازعہ بڑھتا ہے، ایک فریق توہین کرتا ہے تو دوسرا فریق اس کا جواب اپنے دفاع میں دیتا ہے پھر الزام تراشی شروع ہو جاتی ہے۔ اس سے تنازعہ مزید پیچیدہ ہوتا جاتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے، اس پر ظلم نہیں کرتا اسے بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا، اس کی تحقیر نہیں کرتا، کسی مسلمان کے شر کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ (مسند احمد)
مدافعت: ایک فریق توہین کرتا ہے، تو دوسرا فریق اپنا دفاع کرنے میں لگ جاتا ہے، اس طرح تیسرا عمل (مدافعت) وجود میں آتا ہے۔ مدافعت کے معنی عملاً دوسرے فریق پر الزام رکھنے کے ہو جاتے ہیں۔ گویا یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ میں بالکل بے گناہ ہوں ساری خرابیاں آپ میں ہیں مجھ میں نہیں۔ اس طرح مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ تنازعہ مزید بڑھتا ہے۔
سرد مہری اور بات چیت میں تعاون نہ کرنا: درج بالا تینوں عوامل کے بعد چوتھے عمل (سرد مہری اور بات چیت میں عدم تعاون) کی ابتدا ہوتی ہے۔ یہ علامت ہے تنازعہ کے بڑھنے کی، چوتھا عمل مردوں سے زیادہ عورتوں میں عام ہے۔ ایک فریق دوسرے کو نظر انداز کرتا ہے۔ کسی بات کا جواب نہیں دیتا اس سے پہلا فریق اور غصہ میں آجاتا ہے۔
جذبات کی رو میں بہہ جانا: ایک فریق کا رویہ جذبات کے تابع ہو جاتا ہے تو یہ اشارہ ہے کہ نکاح اب طلاق کے خطرے سے دوچار ہے۔ جذبات کے غلبے کا مطلب ہے دوسرے فریق کی تشخیص، توہین اور اس پر الزام تراشی۔ یہ رویہ دوسرے فریق کو مشتعل کرتا ہے۔ بہت سے افراد جذبات کے غلبے کے تحت بات چیت سے دوری اختیار کرتے ہیں یا گفتگو سے الگ ہو جاتے ہیں، جواب ہی نہیں دیتے، یہ جواب نہ دینا منفی رویے سے تو بچاتا ہے مگر یہ طلاق کی طرف لے جاسکتا ہے۔
اصلاح کی کوشش کی ناکامی: اصلاحی کوششوں کے ناکام ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اب آخر طلاق ہونا ہی ہے۔ اس کے باوجود دیکھا گیا ہے کہ میاں بیوی کی جانب سے اصلاح کی کوششوں سے اس مرحلے میں بھی مسئلہ کا حل نکل آتا ہے۔ بعض اقدامات موثر ہوتے ہیں، جیسے معافی مانگنا، معاف کرنا یا مسکرانا۔ اس طرح کی روش اصلاح کی کوشش کہلائے گی، (فریقین ماضی کے منفی واقعات دہراتے ہیں تو تعلقات کی ایک مسخ شدہ تصویر ابھرتی ہے جو رشتوں کے مستقبل پر اثر انداز ہوتی ہے) حکم کا کام یہ ہے کہ ماضی کے ناخوش گوار معاملات و واقعات کا ذکر نہ ہونے دے، اسلام میاں بیوی کے اختلافات دور کرنے کی تاکید کرتا اور صلح کے لیے رہنمائی کرتا ہے۔
صلح کے نتائج:
میاں بیوی کے درمیان صلح سے خاندان کا وجود کٹنے پھٹنے سے محفوظ رہتا ہے، خاندانی زندگی قائم رہتی ہے۔ میاں بیوی کے تعلقات مضبوط ہوتے ہیں، تو اولاد کو پر امن اور مستحکم تربیت گاہ میسر ہوتی ہے۔ وہ ہر قسم کے انحراف سے محفوظ رہتے ہوئے والدین کی شفقت حاصل کرتے ہیں اور اچھی تربیت پاتے ہیں۔ خاندانی جھگڑوں کے اسباب تو ان گنت ہیں، مگر اصل سبب یہ ہوتا ہے کہ کوئی نہ کوئی فریق اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی کی بنیاد پر زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں لوگوں کی تحقیر مذاق اڑانا، بد گمانی، تجسس، غیبت، چغل خوری اور بہتان تراشی جیسے عیوب عام ہیں۔ یہ عادتیں برائیاں سمجھی ہی نہیں جاتیں۔ مرد ہوں یا خواتین باہمی گفتگو کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اکثر گفتگو انہی چیزوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ حکم کو ذی علم، دیانت دار اور نیک نیت ہونا چاہیے۔ وہ صدق دل سے چاہتے ہوں کہ زوجین میں اصلاح ہو جائے۔ اس کے لیے اخلاص کے ساتھ کوشش بھی کریں۔ چاہیے کہ دونوں حکم میاں بیوی کے اختلاف کی وجہ تلاش کریں، سمجھائیں بجھائیں اور اصلاح پر آمادہ کریں تو اللہ کی مدد بھی شامل حال ہوگی۔ ازدواجی زندگی کو خوشگوار اور پائیدار بنانے کے لیے ایک سنہری اصول:
سیدنا ابو درداء نے بتایا کہ انہوں نے ام درداء سے کہا:
اگر مجھے غصہ آئے تو مجھے راضی کرنا اور اگر تہیں غصہ آئے گا تو میں تمہیں منالوں گا اور اگر ایسا نہ ہوا تو بہت جلد ہمارے درمیان جدائی ہو جائے گی۔ (روضة العقلاء لابن حبان)
جناب نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ بڑے شیطان نے پانی پر تخت بچھا رکھا ہے۔ شیطان کے کارندے دنیا میں جاتے ہیں کاروائیاں کرتے ہیں اور پھر واپس آگر اسے رپورٹ دیتے ہیں۔ ایک کہتا ہے کہ میں نے فلاں جگہ جاکر یہ کام کیا، دوسرا آتا ہے کہ میں نے فلاں شہر میں جاکر یہ حرکت کی ہے۔ لیکن شیطان کے دربار میں سب سے زیادہ شاباش اس کو ملتی ہے جو بتاتا ہے کہ میں فلاں گھر گیا اور وہاں اتنا جھگڑا ڈالا کہ میاں بیوی میں طلاق ہو گئی۔ جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ابلیس اپنے تخت پر کھڑا ہوتا ہے، اسے اپنے سینے سے لگاتا ہے اور اس کی پشت تھپتھپاتا ہے کہ اصل کام تو نے کیا ہے۔
گھروں کو دینی ماحول سے آباد کریں:
سرور کائنات محمد عربی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
صلوا في بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا (صحيح مسلم، رقم الحديث: 1821) ترجمہ: گھروں میں (بھی) نماز پڑھا کرو، اور گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔
چنانچہ گھروں میں اگر قرآن مجید کی تلاوت ہوگی نماز ہوگی ذکر ہوگا، درود شریف کا ورد ہوگا اور خیر کی باتیں ہوں گی تو گھروں میں فرشتے اللہ کی رحمت لے کر آئیں گے۔ لیکن اگر گھر میں نماز اور درود و اذکار سے غفلت ہوگی تو پھر شیطان اور اس کے کارندے ہی آئیں گے اور فرشتوں یا شیاطین میں سے جو بھی گھر آئے گا اس کے گھر پر اثرات ہوں گے۔ چناں چہ ہمارے تمام مسائل کا حل قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھام لینا ہے اس کے علاوہ ہمارے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں رسول کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہمارا گھر جنت نظیر بن جائے۔