Menu
عمل اور رد عمل

(شمارہ ماہِ مئی 2024ء)

راحیل گوہر صدیقی

معاون شعبہ تصنیف و تالیف قرآن اکیڈمی یاسین آباد
اس کائنات میں کسی بھی عمل یا حرکت کا اچانک یا اتفاقاً وقوع نہیں ہوتا۔ حادثات، سانحات، وبائیں، زلزلے، طوفان، جنگ کی تباہ کاریاں اور فتح و شکست، سب کچھ اللہ کے پاس ایک کتاب یعنی لوح محفوظ میں ابتدائے آفرینش سے ہی لکھا ہوا ہے اور ان سب کی عملی تشکیل اس دنیا میں ہوتی ہے۔ جس میں کچھ کا اظہار قدرت خداوندی کے تحت ہوتا ہے جو تکوینی حکمتوں کا لازمی تقاضا ہے۔ جب کہ اکثر دنیوی معاملات میں بنی نوع انساں کے اپنے کرتوت شامل ہوتے ہیں، جسے وہ قدرت کی طرف سے دی ہوئی اختیار و آزادی کے بل بوتے پر کرتا ہے۔ از روئے قرآن حکیم : كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰۤىۙ۰۰۶اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ[العلق : 7 – 6]

حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلی سرکشی کر رہا ہے، کیوں کہ اُس نے اپنے آپ کو بے نیاز سمجھ لیا ہے۔۔

اس حقیقت سے سب واقف ہیں کہ ہر اچھے برے عمل کا رد عمل ضرور ہوتا ہے، آ۔ ہوتا ہے، آپ گیند کو جتنی طاقت کے ساتھ دیوار پر ماریں گے وہ اتنی ہی طاقت کے ساتھ آپ کی طرف واپس آئے گی۔ یہ عمل کا رد عمل ہوتا ہے۔ انگلی آگ میں ڈالیں تو آگ اسے جلادے گی، آپ اس پر کتنا ہی افسوس و ندامت کا اظہار کریں یہ بغیر علاج کے صحیح نہیں ہو سکتی۔ کسی کثیر المنزلہ عمارت سے چھلانگ لگا دیں، زیادہ امکان اس کا ہے کہ آپ زندہ نہیں بچیں گے اور اگر کرشمہ خداوندی سے بیچ بھی گئے تو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل بھی نہیں رہیں گے، یہ آپ کے برے عمل کا رد عمل ہے۔ اگر آپ چاہیں کہ کسی بلندی سے چھلانگ لگا دیں اور محفوظ رہیں، دہکتی ہوئے آگ میں جا گھسیں اور وہ آپ کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جائے تو یہ آپ کے دماغ کا خلل تو ہو سکتا ہے، عقل مندی کی علامت نہیں۔

یہ کائنات طبعی اصولوں (physical laws) پر چل رہی ہے۔ اس لیے جب بھی ان اصولوں اور ضابطوں کو توڑا جائے گا تو نتیجہ ہلاکت و بربادی ہی نکلے گا۔ چنانچہ انسان کے مادی وسائل کے حصول میں جب بھی کوئی رکاوٹیں، مسائل، مقتدر طبقات کے طرف سے ظلم و زیادتی سامنے آتی ہے، اس میں یقیناً ان لوگوں کا بھی بڑا کردار ہوتا ہے جو اس ظلم و ستم کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ کہ ہر عمل کا رد عمل فطرت کا تقاضا ہے۔

کچھ نہ کہنے بھی چھن جاتا ہے اعزاز سخن

ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے

اگر ظالم، بے حس اور جوہر انسانیت سے عاری کوئی حکمراں کسی قوم پر مسلط ہے تو یہ رد عمل ہے قوم کے اپنے برے کرتوتوں اور اپنے مفادات کی خاطر اپنے لبوں پر خاموشی کی مہر لگا لینے کا۔ ارشاد ربانی ہے: وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَ يَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍؕ [الشورى: 30] اور تمہیں جو کوئی بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کیے ہوئے کاموں کی وجہ سے پہنچتی ہے اور وہ تو بہت سے کاموں سے درگزر ہی کرتا ہے۔" سورۃ الروم میں فرمایا: ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ [الروم: 41] خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ اللہ ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں۔۔ ہم جو فیصلے کرتے ہیں اس کے اچھے یا برے نتائج ہمارے ساتھ پوری قوم کو بھگتنے پڑتے ہیں، ملک کا نظم و نسق چلانے کے لیے عقل و شعور کو اپنے فکر و عمل میں لائے بغیر مفاد پرست لوگوں کی طرف سے آنکھیں بند کرکے دھوکے بازوں کا انتخاب کر لینا اپنے آپ کو جیتے جی مار دینے کے مترادف ہے۔ جس کا رد عمل جبر و ظلم، لوٹ مار، قتل و غارت اور سک سک کر جینے کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ حکمران ایک دوسرے پر بہتان طرازیاں کرکے اپنی ذمہ داریاں دوسروں پر ڈال کر ملک کی کوئی خدمت نہیں کرتے بلکہ حکمرانوں کا یہ طرز عمل نہ صرف ملک کی ترقی اور خوش حالی کے راستے میں رکاوٹیں ڈالتا ہے بلکہ وطن کی بربادی کی الٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے اور آج ہم سب ایسے ہی گرداب میں پھنس چکے ہیں اور دور دور تک بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی، سوائے بے حس اور شرم و حیا سے عاری اور بے ضمیر حکمرانوں کے بے سروپا باتوں اور جاگتی آنکھوں سنہرے خواب دکھانے کے۔

ہمارے ملک میں اس وقت مہنگائی آسمانوں کو چھو رہی ہے۔ ہر شخص پریشان ہے، عزت دار آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کھانا دو بھر ہو گیا ہے، سوائے ان لوگوں کے جو کالے دھن کو سفید اور سفید کو کالا بنانے کے ماہر ہیں۔ ان کے عیش و عشرت میں کوئی ذرہ برابر بھی کمی نہیں ہوئی ہے اور اس حقیقت سے بھی ہر باشعور شہری واقف ہے کہ ہمارا ملک مافیاز کے چنگل میں پوری طرح جکڑا ہوا ہے اور حکومت اس کے سامنے بے دست و پا ہو چکی ہے۔ کیونکہ اس کے تو اپنے اندر بہت جھول ہیں۔ انہیں اپنی فائلیں کھلنے کا خوف لاحق رہتا ہے، زبانیں کھولیں تو کیوں کر؟ اس حمام میں تو سب ننگے ہیں۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اس کی بنیادی وجہ وہی عمل کا رد عمل ہے۔ ہم بھلا بیٹھے ہیں کہ ہم نے اپنے رب سے ایک وعدہ کیا تھا کہ ہمیں ایک الگ خطہ زمین عطا فرمادے جہاں ہم قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالیں گے، تیرے دین کو اس زمین پر نافذ کریں گے۔ ہم باطل قوتوں سے آزاد ہو کر سکون و راحت سے تیرے اس مقصد کو پورا کریں گے جس مقصد کے تحت تو نے ہمیں اس دنیا میں بھیجا ہے۔ اس سے قبل جہاں ہماری بود باش تھی وہاں سیاسی، معاشی اور سماجی ہر لحاظ سے فکرو تردد اور دو قوموں کے دباؤ کی وجہ سے ہمیں اپنی شناخت کو بچانا بھی دشوار تھا۔ ہم نے اپنے رب کے سامنے دست سوال دراز کیا اس کے سامنے اپنا دامن آرزو پھیلایا، رب نے ہمیں مایوس نہیں کیا اور ہمارے دل کی مراد بر آئی۔ بلاشبہ ہمیں اس راہ میں جان و مال اور عزتوں کی قربانیاں دینا پڑیں۔ یہ فطرت کا تقاضا ہے کہ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا بھی پڑتا ہے۔ کامیابی ناکامیوں کی کوکھ سے جنم لیتی ہے، بازی جیتنے کے لیے کبھی ہارنا بھی پڑجاتا ہے۔ لیکن جذبہ اگرصادق ہو تو کامیابی تمام ناکامیوں پر پانی پھیر دیتی ہے اور فتح کا پرچم لہرا کر ہی رہتا ہے، یہ صداقت اور دیانت داری کا رد عمل ہے۔

لیکن کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ ہم نے اپنی بداعمالیوں، سیاہ کرتوتوں، مفاد، لالچ، بے غیرتی اور ضمیر فروشی کا مظاہرہ شروع کر دیا۔ جن سے آزادی حاصل کی تھی انہیں کے آگے جاکر سجدہ ریز ہو گئے، اپنی خودی، اپنی غیرت، مسجود ملائک ہونے کی عظمت سب کو مٹی میں ملا دیا۔ محض اس لیے کہ ہمارا اپنا گھر دنیا کی تمام آسائشوں سے مالا مال رہے، غیرت، عزت، ضمیر اور جوہر انسانیت سب کتابی باتیں ہیں جو عملی زندگی میں کام نہیں آتیں، عقل مند وہی ہے جو بہتی گنگا میں ہاتھ دھولے، جو ڈر گیا وہ مر گیا، یہ ہے آج کی مادہ پرستانہ زندگی کا فلسفہ!

ہم ناشکرے بھی ہیں اور احسان فراموش بھی، ہم بھانڈوں، مسخروں، اداکاروں اور اداکاراؤں کو انتہائی اعزاز و اکرام کے ساتھ پیوند خاک کرتے ہیں، ان کے مذموم کارناموں پر ٹی وی پر گھنٹوں پروگرام کرتے ہیں مگر جس نے ملک و قوم کو عزت و وقار سے نوازا، دنیاوی اعتبار سے قوت و عظمت عطا کی، دشمنوں کے حوصلے پست کیے، اسے یوں خاموشی سے سپرد خاک کر دیتے ہیں گویا وہ کوئی بے نام اور بے حیثیت انسان ہو۔ حکمراں ٹولے میں سے کسی کو اور نہ کسی سیاست داں کو ہی یہ توفیق ہوئی کہ اس مجاہد اعظم کے لیے اس کے پسماندگان سے ہمدردی کے دو بول ہی بول دیتے، تف ہے ایسے بے ضمیر لوگوں پر، اب ایسے افسوس ناک اور شرم و غیرت سے عاری طرز عمل کا رد عمل اسی تباہی اور بربادی کی صورت میں سامنے آنا ناگزیر ہے جس میں ہمارا یہ ملک اور ہم سب اس وقت مبتلا ہیں۔

وطن کی فکر کر ناداں! مصیبت آنے والی ہے

تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

Related Media